افغانستان کا امریکا سے اپیل: بے دخلی میں ذمہ داری دکھائے
افغانستان کی طالبان حکومت نے امریکا سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان شہریوں کو واپس بھیجتے وقت ذمہ داری سے کام لے۔ رائٹرز کی 2 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق افغان وزارت خارجہ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ کابل اس معاملے میں تعمیری انداز میں بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی شہری کو سودے بازی کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
150 سے زیادہ افغانوں کی واپسی کی رپورٹ
نیویارک ٹائمز نے جمعے کو تین نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ 150 سے زیادہ افغان شہریوں کو واپس بھیجا جانے کی توقع ہے، اور پہلی پرواز پیر کو ہی روانہ ہو سکتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ان افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ رپورٹس ابھی تک امریکی حکومت کے باضابطہ اعلان کی صورت میں سامنے نہیں آئی ہیں، اس لیے پرواز کے روانہ ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
افغان مہاجرین کی مدد کرنے والی تنظیم افغان ایویک کے مطابق واپس بھیجے جانے والوں میں ایسے افغانوں کے رشتہ دار بھی شامل ہو سکتے ہیں جنہوں نے کابل کے سقوط سے قبل امریکی فوج کی مدد کی تھی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان افراد کی واپسی ان کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
پاکستان کے راستے واپسی کیوں
رپورٹس کے مطابق امریکا افغانستان کو براہ راست بے دخلی نہیں کر سکتا، کیونکہ واشنگٹن کے طالبان حکومت سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ اس لیے یہ بے دخلیاں پاکستان کے راستے کی جائیں گی، جہاں سے ان افراد کو افغانستان بھیجا جائے گا۔ تاہم پاکستان کی جانب سے اس منصوبے میں شرکت کی ابھی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اس منصوبے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور صحافیوں کو ہوم لینڈ سیکیورٹی سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔
کابل کا موقف
افغان وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان فریق موجودہ حقائق کو سمجھتے ہوئے اور دونوں فریقوں کے جائز مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے میں تعمیری انداز میں اور باہمی مفاہمت کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تیسرے ممالک کو کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو محدود عارضی مراعات یا دیگر امور کے بدلے سودے بازی کا معاملہ نہیں بنانا چاہیے۔
امریکی کانگریس کے بعض اراکین نے بھی اس منصوبے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان خاندانوں کو تحفظ ملنا چاہیے، نہ کہ انہیں ممکنہ انتقام کا سامنا کرنے کے لیے واپس بھیجا جائے۔ یہ معاملہ پاکستان اور افغانستان کے پہلے سے کشیدہ تعلقات کے پس منظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے، جہاں اسلام آباد کابل پر عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے اور کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان افغانستان امریکا ثالثی کی خبر یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=3200
پاکستان کا افغانستان کو انتباہ یہاں دیکھیں: https://ntmnews.online/?p=3163
ماخذ: رائٹرز، ڈان، ٹریبیون اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹس، یکم تا 2 نومبر 2026 کے مطابق۔