اسرائیل میں تعطل برقرار: نیتن یاہو نگراں وزیراعظم رہیں گے
اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں 85 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد بھی کوئی بلاک حکومت بنانے کی اکثریت حاصل نہیں کر سکا، اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے نگراں وزیراعظم کے طور پر برقرار رہنے کا امکان ہے۔ مرکزی الیکشن کمیٹی کے جزوی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے دائیں بازو کے بلاک کو 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں ملی ہیں، جبکہ سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت والے اپوزیشن بلاک کو 48 نشستیں حاصل ہیں اور عرب جماعتوں نے ریکارڈ 19 نشستیں جیتی ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔
گنتی کی تازہ صورتحال
اسرائیلی میڈیا اور مرکزی الیکشن کمیٹی کے حوالے سے رپورٹس کے مطابق عام پولنگ اسٹیشنوں کے 93 فیصد ووٹ گنے جا چکے ہیں، جو کل ووٹوں کا 85.6 فیصد بنتا ہے۔ لیکوڈ سب سے بڑی واحد جماعت ہے جسے 26 نشستیں ملی ہیں، جبکہ آئزن کوٹ کی جماعت یاشر 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یخد اور جوائنٹ لسٹ کو 12، 12 نشستیں ملنے کا تخمینہ ہے۔
تقریباً چھ لاکھ ڈبل لفافہ ووٹ — جن میں فوجیوں اور اپنے مقررہ پولنگ اسٹیشن سے باہر ووٹ ڈالنے والوں کے ووٹ شامل ہیں — ابھی گنے جانے باقی ہیں۔ ان ووٹوں کی گنتی بدھ کی شام سے شروع ہونے کی توقع ہے اور یہ نشستوں کی حتمی تقسیم بدل سکتے ہیں۔ حتمی سرکاری نتائج 4 نومبر تک متوقع ہیں۔
نیتن یاہو کا دھاندلی کا الزام — ثبوت پیش نہیں کیے گئے
وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے عرب پولنگ اسٹیشنوں پر بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام لگایا ہے اور پولیس، شین بیت اور مرکزی الیکشن کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکوڈ کے دعوے کے مطابق رشوت، دھمکیوں، تشدد، جعلی دستاویزات اور دوہری ووٹنگ کے واقعات ہوئے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور پارٹی نے فوری طور پر کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
جوائنٹ لسٹ کے رہنما احمد طیبی نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ “شکست خوردہ کی زبان” ہے اور عرب جماعتوں کے ووٹوں کو غیر قانونی قرار دینے کی کوشش ہے۔ انہوں نے انتخابی نتیجے کو “شاندار کامیابی” قرار دیا۔
عرب جماعتیں کنگ میکر بن گئیں
اس انتخاب کی سب سے بڑی خبر عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی ہے، جنہوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں — جو ان کی موجودہ 10 نشستوں سے تقریباً دگنی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آئزن کوٹ کے بلاک کے پاس عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر حکومت بنانے کا عملی طور پر کوئی راستہ نہیں، جبکہ زیادہ تر یہودی سیاسی رہنما عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون سے انکار کرتے آئے ہیں۔
جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبارین نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت کو ہٹانے کی خواہش رکھنے والا کوئی بھی اتحاد عرب ارکان سے مذاکرات کے بغیر نہیں بن سکتا۔ انہوں نے جنگی حالات میں باقاعدہ اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے باہر سے وقتی حمایت دینے کا اشارہ دیا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اسرائیلی قانون کے مطابق حتمی گنتی کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور جس امیدوار کے حکومت بنانے کے امکانات سب سے زیادہ ہوں گے اسے نامزد کریں گے۔ نامزد امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے 42 دن ملیں گے۔ اگر کوئی حکومت نہ بن سکی تو دوبارہ انتخابات ہوں گے اور موجودہ کابینہ نگراں حکومت کے طور پر کام کرتی رہے گی۔
صدر ہرزوگ نے نئے انتخابات سے بچنے کے لیے قومی اتحاد پر زور دیا ہے۔ نگراں حکومت کو باضابطہ طور پر وہی اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو عام حکومت کو ہوتے ہیں، تاہم توقع ہے کہ وہ بڑے اور ناقابل واپسی فیصلوں میں احتیاط برتے گی — یہ نکتہ ایران سے کشیدگی کے موجودہ ماحول میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے ہماری سابقہ خبریں ملاحظہ کریں: اسرائیل انتخابات: نیتن یاہو بلاک 53، اکثریت سے دور اور اسرائیل انتخابات: نیتن یاہو بلاک 54، اکثریت سے دور۔
ذرائع: ڈان، ٹائمز آف اسرائیل، وائی نیٹ، بزنس ٹوڈے — مرکزی الیکشن کمیٹی کے جزوی نتائج اور ایجنسی رپورٹس کی بنیاد پر؛ دھاندلی کے الزامات غیر مصدقہ دعوے کے طور پر درج ہیں۔