اکتوبر 2026 تاریخ کا گرم ترین اکتوبر قرار

0

اکتوبر 2026 تاریخ کا گرم ترین اکتوبر قرار پا گیا ہے۔ یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق گزشتہ ماہ عالمی اوسط سطحی درجہ حرارت 15.35 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو صنعتی دور سے قبل کے اوسط سے 1.75 ڈگری زیادہ ہے۔ یہ مسلسل تیسرا مہینہ ہے جس میں عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد سے اوپر رہا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 2026 اب تقریباً یقینی طور پر 2024 کے بعد دوسرا ایسا سال بن جائے گا جس کا اوسط درجہ حرارت 1.5 ڈگری سے زیادہ رہے گا۔

اکتوبر کے اعداد و شمار

کوپرنیکس کے مطابق اکتوبر 2026 کا عالمی اوسط درجہ حرارت 1991 سے 2020 کے اوسط سے 0.90 ڈگری زیادہ رہا۔ اس سے قبل سب سے گرم اکتوبر 2023 میں ریکارڈ ہوا تھا، جو اوسط سے 0.85 ڈگری زیادہ تھا، یعنی نیا ریکارڈ پرانے ریکارڈ سے 0.05 ڈگری زیادہ ہے۔ اکتوبر سے قبل اگست اور ستمبر 2026 بھی 1.5 ڈگری کی حد سے اوپر رہے تھے، اور اس سے پہلے آخری بار نومبر 2025 میں کوئی مہینہ اس حد سے اوپر گیا تھا۔ سمندر بھی ریکارڈ گرم رہے۔ قطبی علاقوں سے باہر سمندر کی اوسط سطحی درجہ حرارت 20.95 ڈگری سینٹی گریڈ رہی، جو اکتوبر کے لیے اب تک کی سب سے زیادہ ہے اور 2023 کے اکتوبر کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ گئی۔ یورپ میں اکتوبر دوسرا گرم ترین مہینہ رہا، جبکہ عالمی سطح پر زمین کا درجہ حرارت مشترکہ طور پر تیسرا گرم ترین رہا۔

2026 دوسرا گرم ترین سال؟

کوپرنیکس کے شماریاتی ماڈل کے مطابق 2026 کا سالانہ اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے قبل کے مقابلے میں 1.56 سے 1.61 ڈگری کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2026 کے 1.5 ڈگری سے اوپر رہنے کا امکان 99 فیصد سے زیادہ ہے، جسے سروس نے “تقریباً یقینی” قرار دیا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو 2026، 2024 کے بعد دوسرا کیلنڈر سال ہوگا جو اس حد سے تجاوز کرے گا۔ کوپرنیکس کا اندازہ ہے کہ 2026 کے دوسرے گرم ترین سال بننے کا امکان تقریباً 80 فیصد ہے، جبکہ 20 فیصد امکان ہے کہ یہ 2024 کے ریکارڈ کے برابر یا اس سے آگے نکل جائے۔ 2024 اب تک کا سب سے گرم سال ہے۔ چار سالہ اوسط 2023 سے 2026 بھی 1.5 ڈگری سے اوپر رہنے کی توقع ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کی تیز رفتار کی واضح علامت ہے۔

ایل نینو کا کردار

کوپرنیکس کے مطابق استوائی بحرالکاہل میں ایل نینو کی صورتحال مزید شدت اختیار کر رہی ہے، جس نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔ ایل نینو ایک قدرتی موسمی مظہر ہے جس میں بحرالکاہل کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے اور دنیا بھر میں موسم کے نمونوں پر اثر پڑتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ قدرتی عوامل کے ساتھ ساتھ انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں نے گرمی کی اس لہر کو مزید شدید بنا دیا ہے۔

پیرس معاہدے کی حد کا مطلب

2015 کے پیرس معاہدے کے تحت ممالک نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو صنعتی دور سے قبل کے مقابلے میں 1.5 ڈگری تک محدود رکھنے کی کوشش پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم یہ ہدف طویل مدتی اوسط کے لیے ہے، اس لیے کسی ایک سال یا چند مہینوں کا اس حد سے اوپر جانا اس کا باقاعدہ خلاف ورزی نہیں سمجھا جاتا۔ کوپرنیکس نے واضح کیا ہے کہ حد “قریب آ رہی ہے”، مگر ابھی اسے عبور نہیں کیا گیا۔ گزشتہ بارہ مہینوں، نومبر 2025 سے اکتوبر 2026 تک، کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے قبل کے مقابلے میں 1.51 ڈگری زیادہ رہا۔

پاکستان کے لیے کیا معنی؟

پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ شدید گرمی، بے وقت بارشیں اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے زراعت، پانی اور صحت پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں ہر اضافہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ہیٹ ویو، سیلاب اور فصلوں کے نقصان کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ حکومت اور عوام کو گرمی سے بچاؤ، پانی کے ذخائر اور موسمیاتی لچک کے منصوبوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی کے بغیر ریکارڈ گرمی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، اور آنے والے برسوں میں مزید ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: دہلی دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار — https://ntmnews.online/?p=4035 اور پاکستان میں 9 سے 13 نومبر تک بارشوں کا نیا سلسلہ — https://ntmnews.online/?p=4039

ماخذ: کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس، ڈاؤن ٹو ارتھ، اے ایف پی، سوویٹن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *