بلوچستان: 19 نومبر کو صوبہ بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

0

بلوچستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے 19 نومبر کو صوبے بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ کوئٹہ میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہڑتال کے ساتھ ساتھ ہر ضلعی ہیڈکوارٹر پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے جائیں گے۔ جماعتوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، مہنگائی اور معاشی بحران نے عام شہری کی زندگی اجیرن کر دی ہے، اور حکومت ان مسائل کے حل میں ناکام رہی ہے۔

کانفرنس میں کیا فیصلے ہوئے

کانفرنس عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی میزبانی میں کوئٹہ پریس کلب میں ہوئی، جس کی صدارت پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کی۔ شرکا نے مشترکہ جدوجہد کو عملی شکل دینے پر اتفاق کیا اور احتجاجی تحریک کا خاکہ تیار کیا۔

فیصلوں کے مطابق 19 نومبر کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کے بعد 26 نومبر کو صوبائی قیادت کا اجلاس ہوگا، جس میں تحریک کے اگلے مرحلے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد دسمبر کے پہلے ہفتے میں ایک اور آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی، جس میں صوبے کے مسائل قومی قیادت کے سامنے رکھے جائیں گے۔

اعلامیے میں کیا کہا گیا

کانفرنس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں بلوچستان کی مجموعی صورتحال کو انتہائی سنگین، تشویشناک اور ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق صوبہ کئی جہتوں والے بحران کا شکار ہے، جس نے عام لوگوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔

اعلامیے میں امن و امان کی خرابی، دہشت گردی، انتہا پسندی، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں، ٹارگٹ کلنگ، تاوان کے لیے اغوا، قومی شاہراہوں پر ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کو درپیش مشکلات، قومی وسائل کی لوٹ مار، لاپتہ افراد کا مسئلہ، بے روزگاری اور معاشی زوال کا ذکر کیا گیا۔

تجارت اور روزگار پر اثرات

اعلامیے کے مطابق افغانستان اور ایران کے ساتھ تجارتی اور ٹرانزٹ راستوں کی بندش نے صوبے کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ مہنگائی، گیس اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، پیٹرولیم لیوی اور یوریا کھاد سمیت ضروری اشیا پر پابندیوں نے زراعت، تجارت، صنعت اور روزگار کے مواقع کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

جماعتوں نے حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جان و مال کا تحفظ، امن کی بحالی، قومی وسائل کا دفاع اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی میں ناکامی محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ گہرے سیاسی اور حکومتی بحران کی عکاسی ہے۔

کانفرنس میں کون کون شریک ہوا

کانفرنس میں نیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور سابق سینیٹر کبیر محمد شاہی، جمیعت علمائے اسلام کے صوبائی سینئر نائب امیر مولوی کمال الدین، پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیارے، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی لیبر سیکریٹری موسیٰ بلوچ، جے یو آئی نظریاتی کے امیر مولانا عبدالقادر لونی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل احمد علی کوہزاد، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی جنرل سیکریٹری انجینئر عمل خان نصیر، پی ٹی آئی رہنما ایڈووکیٹ عبدالحکیم، جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکریٹری عبدالحمید منصوری اور سینٹرل ایسوسی ایشن آف ٹریڈرز کے رہنما رحیم کاکڑ شریک ہوئے۔

آگے کیا ہوگا

سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ دسمبر کی آل پارٹیز کانفرنس میں صوبے کے مسائل قومی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

بلوچستان میں تعلیم کے شعبے میں بھی حالیہ دنوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے — بلوچستان کے سات اضلاع میں دانش اسکولز کی تعمیر تیز کر دی گئی ہے (link: https://ntmnews.online/?p=3945) — جبکہ کوئٹہ میں گندے پانی سے سبزیوں کی آبیاری پر ہائی کورٹ نے بھی برہمی کا اظہار کیا تھا (link: https://ntmnews.online/?p=3947)۔

ماخذ: دی ایکسپریس ٹریبیون، 7 نومبر 2026؛ ٹریبیون انڈیا / اے این آئی، 7 نومبر 2026؛ ڈیلی 6 اے ایم، 6 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *