محمد شامی کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
بھارت کے معروف فاسٹ بولر محمد شامی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ 36 سالہ شامی نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پر ایک جذباتی ویڈیو کے ذریعے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا، جس کے ساتھ ان کا 13 سالہ ٹیسٹ کیریئر اختتام کو پہنچ گیا۔ اس دوران انہوں نے 64 ٹیسٹ میچوں میں 229 وکٹیں حاصل کیں اور بھارت کے بہترین فاسٹ بولرز میں شمار ہوئے۔
اعلان کیسے ہوا
محمد شامی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو میں کہا کہ وہ سفید جرسی کو الوداع کہہ رہے ہیں، لیکن اس سے جڑی یادیں ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بھاری دل اور ان گنت خوبصورت یادوں کے ساتھ وہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اعلان ٹھیک اسی تاریخ کو ہوا جس دن 13 سال قبل انہوں نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔
شامی نے اپنے پیغام میں ان مشکلات، چوٹوں اور واپسیوں کا بھی ذکر کیا جنہوں نے ان کے کیریئر کو متعین کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سخت محنت کی اور بہت سے نشیب و فراز دیکھے، اور اب 13 سال مکمل ہونے پر وہ اس سفر کو یہیں ختم کر رہے ہیں۔
13 سالہ کیریئر کے اعداد
محمد شامی نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو 6 نومبر 2013 کو کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کیا تھا۔ وہ بھارت کی فاسٹ بولنگ کی قیادت کرنے والی نسل کا حصہ بنے اور اپنی ریورس سوئنگ اور تیز رفتار گیند بازی سے دنیا بھر کے بلے بازوں کے لیے خطرہ بنے رہے۔
ان کے کیریئر کے اعداد بتاتے ہیں کہ وہ کتنے اہم بولر تھے — 64 ٹیسٹ میچ، 229 وکٹیں۔ ان کی بہترین کارکردگی اور بڑے میچوں میں وکٹیں لینے کی صلاحیت نے انہیں بھارتی ٹیم کا ناقابلِ تبدیل حصہ بنا دیا تھا۔
آخری ٹیسٹ اور انجریز
شامی کا آخری ٹیسٹ میچ جون 2023 میں لندن کے اوول میں آسٹریلیا کے خلاف ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل تھا۔ اس کے بعد سے مسلسل انجریز اور فٹنس مسائل کے باعث وہ ٹیسٹ ٹیم سے باہر رہے اور تقریباً تین سال تک ریڈ بال کرکٹ میں بھارت کی نمائندگی نہ کر سکے۔
بھارتی ٹیم کے لیے ان کی آخری پیشی 2025 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے وہ قومی ٹیم سے باہر ہیں، تاہم ڈومیسٹک کرکٹ میں بنگال کی نمائندگی اور انڈین پریمیئر لیگ میں لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے کھیلتے رہے ہیں۔
شاستری کا سلیکٹرز پر حملہ
شامی کی ریٹائرمنٹ پر بھارت کے سابق ہیڈ کوچ روی شاستری نے سلیکٹرز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ شاستری نے کہا کہ شامی کو بار بار نظر انداز کیا گیا، حالانکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں وہ فٹ اور فارم میں تھے۔ ان کے مطابق شامی میں ابھی بھی 30 سے 40 ٹیسٹ وکٹیں لینے کی صلاحیت موجود تھی اور انہیں ٹیم میں مزید موقع ملنا چاہیے تھا۔
بھارت کے بولنگ کوچ مورنے مورکل نے بھی شامی کو خراج تحسین پیش کیا اور بتایا کہ شامی نے ڈریسنگ روم میں ان کی بہت مدد کی تھی۔ مورکل نے کہا کہ شامی کا جانا بھارتی کرکٹ کے لیے ایک اداس دن ہے۔
وائٹ بال کرکٹ جاری رہے گی
محمد شامی نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے صرف ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی ہے، کرکٹ سے نہیں۔ وہ وائٹ بال کرکٹ جاری رکھیں گے، چاہے وہ آئی پی ایل ہو یا ڈومیسٹک کرکٹ۔ اس فیصلے سے 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے ان کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔
شامی نے کہا کہ انہوں نے آج ہی ڈیبیو کیا تھا اور آج ہی ریٹائرمنٹ لے رہے ہیں — یہ سفر آج یہیں ختم ہو رہا ہے، لیکن وائٹ بال کرکٹ میں ان کا سفر جاری رہے گا۔
شامی کی ریٹائرمنٹ بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کے ایک اہم دور کا اختتام ہے۔ ان کی جگہ لینے والے نوجوان فاسٹ بولرز کے لیے ان کا کیریئر ایک مثال ہے کہ محنت اور مستقل مزاجی سے طویل عرصے تک عالمی کرکٹ میں مقام بنایا جا سکتا ہے۔
مزید کرکٹ خبریں: ارشدیپ سنگھ کی تباہ کن بولنگ، بھارت کی نیوزی لینڈ پر جیت اور آریاویر سہواگ 70 ناٹ آؤٹ، بھارت نے نیپال کو ہرا دیا
ماخذ: دی ٹیلی گراف انڈیا، چینل نیوز ایشیا، وِیون اور اے بی پی لائیو — 7 نومبر 2026