اکتوبر میں مہنگائی 9.5 سے 10.5 فیصد رہے گی، وزارت خزانہ

0

وزارت خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اکتوبر 2026 میں پاکستان میں مہنگائی 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔ وزارت کی ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق، خلیجی خطے میں جاری کشیدگی، عالمی تیل قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی رکاوٹیں اور عالمی مہنگائی معیشت کے لیے منفی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ستمبر میں مہنگائی 10.3 فیصد رہی تھی، جو اگست کے 11.1 فیصد سے کم تھی، مگر اکتوبر میں اس کے دوبارہ بلند رہنے کا امکان ہے۔

مہنگائی کیوں بلند رہے گی

وزارت خزانہ کے مطابق، عالمی اجناس کی بلند قیمتیں توانائی کے درآمدی بل، ٹرانسپورٹ، پیداوار اور تقسیم کی لاگت کے ذریعے پاکستان میں منتقل ہو رہی ہیں۔ ستمبر میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 116.8 ڈالر فی بیرل رہی، جو اگست کے مقابلے میں 28.4 فیصد زیادہ تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مہنگائی کا راستہ عالمی توانائی قیمتوں، خوراک کی فراہمی اور بیس ایفیکٹ پر منحصر ہوگا۔ خلیجی تنازع اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں پر۔

ستمبر اور مالی سال کے اعداد

رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں اوسط مجموعی صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) مہنگائی 10.2 فیصد رہی، جب کہ گزشتہ برس اسی عرصے میں یہ شرح صرف 4.3 فیصد تھی۔ ستمبر 2026 میں مہنگائی 10.3 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو ستمبر 2025 کے 5.8 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔

نظرثانی شدہ قومی حسابات کے مطابق، مالی سال 2026 میں معاشی نمو 3.65 فیصد رہی، جو پہلے کے 3.70 فیصد کے تخمینے سے معمولی کم ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ابتدائی اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ مالی سال 2027 میں نمو کی رفتار جاری رہے گی، مگر اس کا انحصار عالمی معاشی حالات پر ہوگا۔

شرح سود میں اضافہ اور اس کی وجہ

مہنگائی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 27 اکتوبر 2026 سے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 12.0 فیصد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں شدت اور عالمی توانائی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بتائی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق، شرح سود میں اضافے سے قرضے مہنگے ہوں گے، جس کا اثر نجی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ تاہم، وزارت کا کہنا ہے کہ یہ قدم مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ضروری تھا۔

درآمدات بڑھیں، تجارتی خسارہ وسیع ہوا

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جولائی تا ستمبر مالی سال 2027 میں پاکستان کی درآمدات 14.3 فیصد بڑھ کر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جب کہ برآمدات صرف 7.7 فیصد بڑھ کر 8.5 ارب ڈالر رہیں۔ اس کے نتیجے میں جاری کھاتوں کا خسارہ 874 ملین ڈالر تک وسیع ہو گیا، جو گزشتہ برس اسی عرصے میں 755 ملین ڈالر تھا۔

ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 27.4 فیصد، جب کہ رہائش، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں 12.4 فیصد اضافہ ہوا۔ جلد خراب ہونے والی غذائی اشیا 11.8 فیصد اور غیر جلد خراب ہونے والی اشیا 7.6 فیصد مہنگی ہوئیں۔

ہفتہ وار مہنگائی کے تازہ اعداد

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق، 29 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) 373.51 کی سطح پر رہا اور 51 بنیادی اشیا کی قیمت ایک سال پہلے کے مقابلے میں 11.32 فیصد زیادہ رہی۔ یہ ہفتہ وار اشاریہ شہری منڈیوں تک محدود ہے اور اسے ماہانہ مہنگائی کے اعداد سے براہ راست موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ مالی سال 2027 میں بحالی کا عمل زراعت، ترسیلات زر اور اصلاحات سے تقویت پائے گا، مگر مہنگائی، ناہموار صنعتی کارکردگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال چیلنجز بنے رہیں گے۔ اکتوبر کے حتمی مہنگائی اعداد آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ پیش گوئی کتنی درست ثابت ہوئی۔

مزید پڑھیں: آر ایل این جی 15.3 فیصد مہنگی، اوگرا نے نئی قیمتیں جاری کر دیں اور پٹرول قیمت برقرار، ڈیزل 2.29 روپے مہنگا۔

ماخذ: بزنس ریکارڈر، دنیا نیوز، پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس — 29 اور 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *