طالبان کا الزام: منشیات پاکستان سے آ رہی ہیں

0

افغانستان میں طالبان کی وزارت داخلہ نے الزام لگایا ہے کہ افغانستان میں اسمگل کی جانے والی بیشتر منشیات، جن میں روایتی اور مصنوعی دونوں اقسام شامل ہیں، پاکستان سے آ رہی ہیں، اور اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ روکنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

طالبان کی وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی کے حوالے سے جمعرات 29 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا کہ افغانستان میں منشیات کی کاشت طالبان کی کارروائیوں کے بعد تقریباً صفر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پڑوسی ملکوں میں کاشت اور پیداوار کی ابھی تک مذمت یا تحقیقات نہیں ہوئی ہیں۔ قانی نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی مذمت کریں اور منشیات کی کاشت، پیداوار اور اسمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

بلوچستان کا ذکر اور سیٹلائٹ رپورٹ

رپورٹس کے مطابق قانی کے بیان کا پس منظر یہ ہے کہ طالبان کی جانب سے افغانستان میں منشیات پر پابندی کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پوست کی کاشت کا مرکز بننے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کی ایک رپورٹ میں سیٹلائٹ تجزیے اور مقامی کسانوں کے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں پوست کی کاشت میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح 27 اکتوبر کو ٹولو نیوز کو دیے گئے ایک بیان میں قانی نے کہا تھا کہ بلوچستان میں ہزاروں ہیکٹر زمین پر منشیات کی فصلیں کاشت کی جا رہی ہیں، اور وہاں تیار ہونے والی منشیات افغانستان سمیت دیگر ملکوں کو اسمگل کی جاتی ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ پاکستان میں تیار منشیات کا معیار کم ہے اور یہ انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ یہ تمام دعوے طالبان وزارت داخلہ کی جانب سے کیے گئے ہیں، اور ان کی آزادانہ تصدیق رپورٹس میں شامل نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت کا رقبہ 2022 میں 2 لاکھ 32 ہزار ہیکٹر سے کم ہو کر 2025 میں 10 ہزار 200 ہیکٹر رہ گیا، جبکہ افیون کی پیداوار 6 ہزار 200 ٹن سے گھٹ کر تقریباً 296 ٹن ہو گئی۔ تاہم اقوام متحدہ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ افغانستان میں موجود افیون کے ذخائر 2026 کے آخر تک چل سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پابندی کے بعد ایک “بالون اثر” دیکھا گیا ہے، یعنی ایک ملک میں سختی سے غیر قانونی سرگرمیاں پڑوسی ملکوں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ یو این او ڈی سی کے مطابق افغانستان کے قریب دو ملکوں میں پوست کی تلفی 2022 میں 5 ہزار 868 ہیکٹر سے بڑھ کر 2023 میں 13 ہزار 200 ہیکٹر ہو گئی۔

تاریخی پس منظر

2022 تک افغانستان دنیا کی غیر قانونی افیون کا تقریباً 80 فیصد پیدا کرتا تھا۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افیون کی پیداوار میں 95 فیصد کمی آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی پابندی اور علاقائی عدم استحکام کے باعث پاکستان کے بلوچستان اور ایران کے سیستان و بلوچستان کے علاقے عالمی افیون پیداوار کے نئے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔

یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی کشیدگی پہلے ہی جاری ہے، اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر دہشت گردی اور اسمگلنگ سے متعلق الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا افغان طالبان سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ https://ntmnews.online/?p=2001 اور افغان الزامات پر پاکستان کے دفتر خارجہ کا ردعمل https://ntmnews.online/?p=2056 بھی ملاحظہ کریں۔

ذرائع: آئی اے این ایس، افغانستان انٹرنیشنل، ٹولو نیوز، ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی، یو این او ڈی سی رپورٹ جولائی 2026 — 29 اکتوبر 2026۔ نوٹ: طالبان کے دعوے ان کے اپنے بیانات کے طور پر پیش کیے گئے ہیں، ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *