پٹرول 3.19 روپے سستا، ڈیزل 2.25 روپے مہنگا
وفاقی حکومت نے 28 اکتوبر 2026 سے پٹرول کی قیمت میں 3.19 روپے فی لیٹر کمی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2.25 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے تحت پٹرول 376.06 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 398.07 روپے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
نئی قیمتیں اور گزشتہ روز کا موازنہ
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت 379.25 روپے سے کم ہو کر 376.06 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت 395.82 روپے سے بڑھ کر 398.07 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ نئی قیمتیں بدھ کی رات 12 بجے سے نافذ ہوئیں اور ایک روز کے لیے برقرار رہیں گی۔
یہ تبدیلی ایک روز قبل کیے گئے اضافے کے بعد آئی ہے، جب 27 اکتوبر کے لیے پٹرول 1.54 روپے اور ڈیزل 2.16 روپے فی لیٹر مہنگا کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے 16 اکتوبر کو اعلان کردہ قیمتوں میں پٹرول 377.71 روپے پر برقرار رکھا گیا تھا جبکہ ڈیزل 1.91 روپے اضافے سے 393.66 روپے فی لیٹر ہوا تھا۔
روزانہ قیمتوں کا نیا نظام
17 جولائی سے حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لینے کا نظام اپنایا ہوا ہے، جس کے تحت قیمتیں ہر روز بین الاقوامی مارکیٹ، پلاٹس کے نرخوں، پریمیم اور دیگر اخراجات کو مدنظر رکھ کر طے کی جاتی ہیں۔ ہفتے اور اتوار کو قیمتیں تبدیل نہیں کی جاتیں۔
اوگرا نے شفافیت کے لیے اپنی ویب سائٹ پر روزانہ قیمتیں شائع کرنا بھی شروع کر دی ہیں۔ وفاقی کابینہ کے منظور کردہ نئے فریم ورک کے تحت اوگرا ہر روز ایکس ڈپو قیمتیں اعلان کر سکتا ہے، اس کے لیے ہر بار وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری ضروری نہیں۔
صارفین پر اثرات
پٹرول سستا ہونے سے موٹر سائیکل سواروں، نجی گاڑیوں کے مالکان اور روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کو کچھ ریلیف ملے گا۔ دوسری جانب ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، مال برداری اور زراعت کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے، کیونکہ بھاری گاڑیوں اور زرعی مشینری میں ڈیزل ہی استعمال ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل کی لاگت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے 13 ستمبر کو اعلان کردہ ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، تھری ویلر رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر کی رعایت کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جس سے تقریباً ایک کروڑ 18 لاکھ مستفیدین کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
عالمی مارکیٹ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں، جس کے باعث حکومت نے روزانہ قیمتوں کے جائزے کا نظام اپنایا۔
پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کے مطابق نئی قیمتیں گزشتہ سات روز کی اوسط بین الاقوامی قیمتوں کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر رائج طریقہ کار ہے۔
مزید پڑھیں: پٹرول کی قیمت میں آج 22 اکتوبر کو 2 روپے 71 پیسے کمی
مزید پڑھیں: پیٹرولیم لیوی: حکومت اور جماعت اسلامی کی 6 رکنی کمیٹی
ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، آج نیوز، 27 اکتوبر 2026 — پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کی روشنی میں۔