امریکی ڈاک ٹکٹ فراڈ کیس: ملزم فہیم اکرم کا ریمانڈ 30 اکتوبر تک
لاہور کی ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے مبینہ 35 ارب روپے کے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فراڈ کیس میں مرکزی ملزم فہیم اکرم کا جسمانی ریمانڈ 30 اکتوبر تک بڑھا دیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ملزم کو گزشتہ پانچ روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا تھا۔
شریک ملزم بھی پیش، دونوں کا ریمانڈ منظور
ایجنسی نے اسی مقدمے میں حال ہی میں گرفتار ہونے والے شریک ملزم نعیم کو بھی پہلی بار جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا۔ مجسٹریٹ نعیم وٹو نے دونوں ملزمان کا جسمانی ریمانڈ 30 اکتوبر تک منظور کر لیا۔ عدالت میں پیشی کے دوران ایجنسی نے موقف اختیار کیا کہ تفتیش ابھی جاری ہے اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے ملزمان کی تحویل ضروری ہے۔
مبینہ فراڈ کی تفصیل
ایجنسی کے مطابق ملزم فہیم اکرم نے مبینہ طور پر اگست 2023 سے ایک ویب سائٹ LabelsBank.com چلا کر جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فروخت کیے۔ الزام ہے کہ اس ویب سائٹ کے ذریعے 50 لاکھ سے زائد جعلی ڈاک ٹکٹ فروخت ہوئے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق فہیم اکرم پر ستمبر 2026 میں فلوریڈا کی ایک وفاقی گرینڈ جیوری نے فرد جرم عائد کی تھی، جس میں 51 لاکھ سے زائد جعلی ڈاک لیبلز کی فروخت کا الزام ہے۔ امریکی استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان جعلی لیبلز سے امریکی ڈاک خانے کو 126 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔
امریکی استغاثہ کے مطابق ویب سائٹ پر لیبلز تقریباً 2 ڈالر فی لیبل کے حساب سے فروخت کیے جاتے تھے، چاہے پارسل کا وزن یا منزل کچھ بھی ہو۔ بعد ازاں ایک امریکی عدالت کے حکم پر ویب سائٹ کو ضبط کر کے بند کر دیا گیا تھا۔
لاہور سے گرفتاری اور اب تک کی کارروائی
فہیم اکرم کو اس سے قبل لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کی خبر اس لنک میں شائع ہوئی تھی: https://ntmnews.online/?p=1126 ۔ آن لائن ہراسانی اور سائبر جرائم کے خلاف عدالتی احکامات سے متعلق حالیہ خبر اس لنک میں بھی پڑھی جا سکتی ہے: https://ntmnews.online/?p=2186 ۔
آگے کیا ہوگا
ریمانڈ میں توسیع کے بعد ایجنسی کو 30 اکتوبر تک ملزمان سے تفتیش کا موقع ملے گا۔ تفتیش کاروں کو یہ معلوم کرنا ہے کہ جعلی لیبلز کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کہاں گئی، اس نیٹ ورک میں اور کون لوگ شامل تھے، اور آیا پاکستان کے اندر بھی اسی طرح کے مزید اکاؤنٹس یا ویب سائٹس سرگرم ہیں۔ عدالت میں اگلی پیشی پر ایجنسی کو تفتیش کی پیش رفت سے آگاہ کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ ملزمان کے خلاف عائد الزامات ابھی ثابت نہیں ہوئے ہیں اور مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ پولیس اور ایجنسی کے مطابق تفتیش مکمل ہونے کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ماخذ: ڈان (27 اکتوبر 2026)، امریکی محکمہ انصاف