ایل پی جی مہنگی کیوں؟ وزیر نے ایران بارڈر کو ذمہ دار ٹھہرایا
قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان ایران بارڈر کی بندش ایل پی جی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت اب سمندری راستے سے ایل پی جی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ قلت اور مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔
قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث کے دوران ارکان نے شکایت کی کہ ملک کے دور دراز اور شمالی علاقوں میں ایل پی جی 700 سے 800 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مقرر کردہ سرکاری قیمت صرف 280 روپے فی کلو ہے۔ ایل پی جی ان علاقوں میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے جہاں پائپ لائن گیس دستیاب نہیں، اور سردیوں میں اس کی کھپت مزید بڑھ جاتی ہے۔
وزیر نے کیا بتایا؟
وزیر پٹرولیم نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان کی ایل پی جی کی ضروریات کا 50 سے 60 فیصد ایران سے درآمد کیا جاتا تھا، جبکہ باقی قطر سے حاصل کی جاتی تھی۔ ان کے مطابق امریکا ایران جنگ کے باعث قطر سے ایل پی جی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے، جس سے سپلائی کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔
وزیر نے تسلیم کیا کہ سرکاری قیمت 280 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن اس کے باوجود کہیں بھی ایل پی جی سرکاری نرخ پر فروخت نہیں ہو رہی، حتیٰ کہ وافر سپلائی کے دوران بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پورے نظام کا جائزہ لے رہی ہے اور بیرون ملک سے گیس حاصل کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر رہی ہے۔
ایران بارڈر اور سپلائی کا پس منظر
ایل پی جی کی سپلائی کا مسئلہ گزشتہ ہفتوں سے جاری ہے۔ 25 اکتوبر کو گبد رمدان بارڈر سے تجارت بحال ہونے کی خبر آئی تھی، اور ایرانی سفیر نے بھی کہا تھا کہ ایران کی طرف سے ایل پی جی برآمدات پر کوئی پابندی نہیں ہے، بلکہ ای فارم کے طریقہ کار میں تبدیلی کے باعث تاجروں کے ٹرک پھنس گئے تھے۔ اس کے باوجود مارکیٹ میں قیمتیں قابو سے باہر ہیں۔
گزشتہ ہفتے کی رپورٹس کے مطابق کوئٹہ میں ایل پی جی 520 روپے، پشاور میں 570 روپے، اسلام آباد اور راولپنڈی میں 600 روپے اور کراچی میں 550 روپے فی کلو تک فروخت ہوئی تھی، جبکہ بعض شہروں میں قیمتیں 600 سے 650 روپے تک پہنچ گئی تھیں۔ قومی اسمبلی میں پیش کردہ نئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دور دراز علاقوں میں صورت حال اس سے بھی بدتر ہے، جہاں قیمتیں 800 روپے تک جا پہنچی ہیں۔
صارفین پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟
ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ ان گھرانوں پر پڑ رہا ہے جو کھانا پکانے اور سردیوں میں گھر گرم رکھنے کے لیے مکمل طور پر ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں متبادل ایندھن مہنگا یا دستیاب نہیں، اس لیے خاندان مجبوراً زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔
دکانداروں اور ڈیلرز کا کہنا ہے کہ سپلائی کی کمی اور نقل و حمل کی لاگت بھی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بن رہی ہے۔ جب سپلائی کم ہوتی ہے تو ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں، جس سے عام صارف مزید متاثر ہوتا ہے۔
حکومت آگے کیا کرے گی؟
وزیر نے کہا کہ حکومت سمندری راستے سے ایل پی جی کی درآمد کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ایران اور قطر پر انحصار کم کیا جا سکے۔ تاہم انہوں نے کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی کہ نئی سپلائی کب مارکیٹ میں آئے گی اور قیمتیں کب سرکاری نرخ کے قریب آئیں گی۔
صارفین کے لیے فوری ریلیف کا انحصار اس بات پر ہے کہ سپلائی کتنی جلد بحال ہوتی ہے اور کیا حکومت ذخیرہ اندوزی اور زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ایل پی جی کی طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے، اس لیے آنے والے ہفتے اس بحران کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔
متعلقہ خبریں: 26 اکتوبر کو شہر بہ شہر ایل پی جی کی قیمتیں یہاں پڑھیں: https://ntmnews.online/?p=2038 اور ایران کے سفیر کے ایل پی جی سے متعلق بیان کی خبر یہاں: https://ntmnews.online/?p=1886
ماخذ: ڈان کی 27 اکتوبر 2026 کی رپورٹ (قومی اسمبلی کی کارروائی)۔