مارکیٹیں رات 9 بجے بند، سرکاری گاڑیوں کا پیٹرول آدھا
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تازہ اضافے کے ساتھ حکومت نے کفایت شعاری کے سخت اقدامات بھی بحال کر دیے ہیں، جن کے تحت ملک بھر میں تجارتی مارکیٹیں رات 9 بجے بند کرنا ہوں گی اور سرکاری گاڑیوں کے لیے پیٹرول کی فراہمی ابتدائی طور پر تین ماہ کے لیے 50 فیصد کم کر دی جائے گی۔
یہ اقدامات 27 اکتوبر سے نافذ ہونے والی نئی پٹرولیم قیمتوں کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے حوالے سے بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے بتایا ہے کہ حکومت توانائی کی بچت اور سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے یہ پابندیاں دوبارہ نافذ کر رہی ہے۔
نئی قیمتیں کیا ہیں؟
نئی قیمتوں کے تحت پٹرول 1.54 روپے اضافے سے 379.25 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 2.16 روپے اضافے سے 395.82 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے پٹرول 377.71 روپے اور ڈیزل 393.66 روپے فی لیٹر تھا۔
پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ ردوبدل عالمی منڈی میں پلیٹس نرخوں، پریمیم اور دیگر اخراجات میں تبدیلی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ پٹرول پر فی لیٹر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے کے ٹیکس اور ڈیوٹیز برقرار ہیں۔
مارکیٹوں کی بندش سے کس پر اثر پڑے گا؟
رات 9 بجے مارکیٹیں بند کرنے کی ہدایت کا سب سے براہ راست اثر دکانداروں، چھوٹے تاجروں اور شام کے وقت خریداری کرنے والے صارفین پر پڑے گا۔ ماضی میں بھی توانائی بچت کے لیے اسی طرح کی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں، اور تاجروں کی جانب سے اس پر تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔
دوسری جانب سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول میں 50 فیصد کٹوتی کا مقصد سرکاری اخراجات کم کرنا ہے۔ تین ماہ کی ابتدائی مدت کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا اسے برقرار رکھا جائے یا نہیں۔
قیمتیں اس سطح تک کیسے پہنچیں؟
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی قیمت فروری کے آخر میں 281 روپے فی لیٹر تھی، جو 3 اپریل کو 520.35 روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی، اور اس کے بعد بتدریج کم ہوئی۔ پٹرول بھی مارچ کے پہلے ہفتے میں 266 روپے سے بڑھ کر 458.41 روپے کی تاریخی بلند سطح تک گیا تھا۔
حکومت کا موقف ہے کہ عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے قیمتیں دباؤ میں ہیں۔ پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی نرخوں میں معمولی تبدیلی بھی مقامی قیمتوں پر اثر ڈالتی ہے۔
غریب طبقے کے لیے ریلیف اسکیم
13 ستمبر کو وزیر اعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکل، آٹو رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ریلیف اسکیم کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد عالمی قیمتوں کے بوجھ سے کم آمدنی والے طبقے کو کچھ سہولت دینا تھا۔
تاہم ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے، اور اگر ٹرانسپورٹرز اور کاروبار یہ بوجھ آگے منتقل کریں تو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
متعلقہ خبریں: آج کی پٹرول اور ڈیزل قیمت (https://ntmnews.online/?p=2105) اور پٹرولیم لیوی پر اسلام آباد مارچ کی وارننگ (https://ntmnews.online/?p=2159)۔
ماخذ: ڈان کی رپورٹ کے حوالے سے اے این آئی / ٹریبیون انڈیا، 27 اکتوبر 2026۔