ریاض پر حوثی میزائل حملہ ناکام، فضائی دفاع نے گرایا
سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے پیر 26 اکتوبر 2026 کو یمن کے حوثیوں کی طرف سے سعودی دارالحکومت ریاض کی طرف فائر کیے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی مار گرایا۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ فضائی دفاع نے حوثی ملیشیا کی طرف سے ریاض کی طرف فائر کیا گیا بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثیوں کے میزائل لانچرز کو بھی نشانہ بنایا۔
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے پیر کو دعویٰ کیا کہ ان کے گروپ نے ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے کامیابی سے نشانہ بنایا ہے اور تیل پمپنگ اسٹیشنوں پر ڈرون حملے بھی کیے ہیں۔ سریع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یمن کے عدن اور لحج گورنریٹس میں سعودی فوجی ٹھکانوں اور ہتھیاروں کے ذخائر پر دو کارروائیوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ یہ دعوے حوثیوں کی طرف سے کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اتوار کو ریاض میں کیا ہوا تھا؟
پیر کے حملے سے ایک دن پہلے اتوار کو بھی ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور حکام نے شہریوں کو موبائل پیغامات کے ذریعے خبردار کیا تھا کہ شہر کو ایک “دشمن فضائی خطرے” کا سامنا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے اتوار کو بتایا تھا کہ اس نے کم از کم 10 بیلسٹک میزائل روک لیے ہیں۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق جنوب میں گرنے والے ملبے سے دو افراد زخمی ہوئے اور کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جاری کردہ تصاویر میں ایک عمارت کا اوپری حصہ تباہ اور شیشے ٹوٹے ہوئے نظر آئے۔
خميس مشيط کے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اتوار کی صبح سے بمباری بہت شدید تھی اور دھماکوں سے ہر چیز ہل رہی تھی۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب کے جنوبی علاقے بھی ان حملوں کی زد میں ہیں۔
شاہ خالد ایئرپورٹ کیوں نشانہ ہے؟
حوثیوں نے گزشتہ ہفتوں میں ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بار بار حملے کیے ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں ہونے والے ایک حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے جسے ایک دہائی سے زائد عرصے میں مملکت میں سب سے مہلک حملہ قرار دیا گیا۔ ایئرپورٹ کی بندش سعودی عرب کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوئی اور اس کے باعث مملکت کی مشہور سرمایہ کاری کانفرنس 2027 تک ملتوی کر دی گئی جبکہ ہزاروں مسافروں کے سفری منصوبے متاثر ہوئے۔
اتوار کو ایئرپورٹ پر پروازیں دوبارہ شروع ہوئی تھیں لیکن حوثیوں نے خبردار کیا تھا کہ ایئرپورٹ اب بھی “غیر محفوظ” ہے اور ایک “فوجی ہدف” ہے، اور ایئر لائنز و مسافروں سے اس سے گریز کرنے کو کہا تھا۔ سریع نے کہا تھا کہ ایئرپورٹ پر کسی بھی کارروائی کے نتائج کی ذمہ داری سعودی حکومت پر ہوگی۔ اسی پس منظر میں پیر کا میزائل حملہ ہوا جسے سعودی دفاع نے ناکام بنا دیا۔
خطے میں کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟
سعودی عرب اور یمن میں اس کی حمایت یافتہ حکومت کو گزشتہ موسم گرما میں برسوں پرانی جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد سے حوثیوں کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ یہ کشیدگی اس وسیع تر امریکا ایران جنگ کے تناظر میں بڑھ رہی ہے جو فروری میں شروع ہوئی تھی۔ اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ حوثیوں کے بیلسٹک میزائل نیٹ ورک کو ختم کرنے کا عمل جاری رہے گا۔
اسی دوران یونان کے وزیراعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران یونانی وزیراعظم نے مملکت کی درخواست پر پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام سعودی عرب میں برقرار رکھنے پر مثبت جواب دیا۔ یونان نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع تیل کی برآمدات کے بڑے مرکز ینبع میں امریکی ساختہ پیٹریاٹ نظام کی ایک بیٹری تعینات کر رکھی ہے۔
ڈاکار ریلی بھی متاثر
سعودی عرب میں جاری کشیدگی کے اثرات کھیلوں اور تقریبات پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ڈاکار ریلی بھی ان تقریبات کی فہرست میں شامل ہو گئی ہے جو جنگ کے اثرات کے باعث منسوخ، ملتوی یا کسی اور مقام پر منتقل کر دی گئی ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ سیکیورٹی صورتحال صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے معاشی اور ثقافتی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
سعودی اتحاد اور حوثیوں کے درمیان یہ تازہ جھڑپ اس وقت ہو رہی ہے جب خطے میں پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ کیا سفارتی کوششیں کشیدگی کم کر پاتی ہیں یا حملوں کا سلسلہ مزید تیز ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: ریاض ایئرپورٹ کھل گیا، دو ہفتے بعد پروازیں بحال https://ntmnews.online/?p=1850 اور دمام کے شاہ فہد ایئرپورٹ پر حملہ https://ntmnews.online/?p=1301
ذرائع: چینل نیوز ایشیا کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹ (اے ایف پی کے حوالے سے)، دی ہندو اور ملے میل کی رپورٹوں کے مطابق۔