تہران میں سعودی ترکیہ پاکستان حکام کی ایران سے ملاقات
ذرائع کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام آج پیر کو تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے جس میں علاقائی ہم آہنگی پر بات چیت متوقع ہے۔ یہ خبر سی جی ٹی این کی بریکنگ نیوز میں دو ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہے جبکہ اسکائی نیوز عربیہ کی اطلاع میں بھی اسی ملاقات کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم اب تک کسی بھی حکومت نے باضابطہ طور پر اس ملاقات کے ایجنڈے یا شرکا کی حتمی فہرست کا اعلان نہیں کیا ہے۔
ملاقات کیوں اہم ہے
یہ متوقع ملاقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ آج ایران پر حملہ نہیں ہوگا اور قطر کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ اس پس منظر میں مکہ معاہدے کے تینوں فریقین کے حکام کی تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کو علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مکہ معاہدہ کیا ہے
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان حال ہی میں مکہ میں دستخط کیا گیا تھا جس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیر اعظم شہباز شریف شریک ہوئے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون بڑھانے اور مشترکہ روک تھام کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تھا۔
ترکیہ اور پاکستان کے حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا ہدف ایران یا خطے کا کوئی اور ملک نہیں ہے۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ علاقائی استحکام کے لیے اہم قدم ہے جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی اسے دفاعی قرار دیا تھا۔
ایران کا موقف
ایران کے پاکستان میں سفیر رضا امیری مقدم نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک سیمینار میں کہا تھا کہ تہران پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت امریکہ سے بات چیت کے لیے تیار ہے بشرطیکہ واشنگٹن اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تہران مکہ معاہدے کا مطالعہ کرے گا اور اگر یہ معاہدہ اچھا ہوا تو اس کی حمایت کرے گا۔
ایرانی حکام کی جانب سے اس سے قبل یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ خطے میں کسی بھی نئی فوجی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے تہران میں ہونے والی متوقع ملاقات میں دفاعی معاہدے کے مقاصد اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے ایران کے تحفظات پر بھی بات ہونے کا امکان ہے۔
آگے کیا ہوگا
ذرائع کے مطابق ملاقات میں علاقائی ہم آہنگی، سمندری راستوں کی سلامتی اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات زیر بحث آ سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح رہے کہ ملاقات کی خبر ابھی ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہے اور اس کی باضابطہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے کسی بھی باضابطہ بیان سے اس کی اصل نوعیت اور نتائج واضح ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ: آج ایران پر حملہ نہیں ہوگا، قطر ثالثی جاری
مزید پڑھیں: ایران امریکہ کشیدگی کی تازہ صورتحال
ماخذ: سی جی ٹی این بریکنگ نیوز اور اسکائی نیوز عربیہ، 26 اکتوبر 2026۔ ذرائع کے حوالے سے خبر، باضابطہ تصدیق باقی ہے۔