اقوام متحدہ: بھارت نے پاکستان پر پروپیگنڈا کا الزام لگایا

0

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی کے اجلاس میں بھارت نے پاکستان پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے فورم کو پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی سفارت کار راگھو پوری نے کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور پاکستان کو اس کے غیر قانونی قبضے والے علاقے خالی کر دینے چاہئیں۔

بھارت نے کیا کہا؟

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی میں اقلیتی امور کے خصوصی نمائندے کے ساتھ انٹرایکٹو ڈائیلاگ کے دوران بھارت کے فرسٹ سیکریٹری راگھو پوری نے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر فورم کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نمائندے اپنے شہریوں کی فلاح پر توجہ دینے کے بجائے اپنی فوج کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔

بھارتی سفارت کار نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ بنیادی طور پر ریاستوں کی خودمختار ذمہ داری ہے اور یہ اصول ریاستی خودمختاری کی برابری پر مبنی ہے۔ انہوں نے بھارت کے آئینی تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے حقوق آئین میں محفوظ ہیں اور اقلیتوں نے قومی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں حکومت کے اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

پاکستان کا مؤقف اور پس منظر

یہ تبادلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اقوام متحدہ کے مختلف فورمز پر کشمیر اور اقلیتی حقوق کے معاملات اٹھاتا رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اس کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ بھارت اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے۔

واضح رہے کہ 23 اکتوبر کو بھی بھارت نے اقوام متحدہ میں پاکستان پر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے تنقید کی تھی۔ اس موقع پر بھارت کی فرسٹ سیکریٹری بھاویکا منگلانندن نے مذہبی آزادی کے خصوصی نمائندے کی رپورٹ پر سوال اٹھائے تھے، جس میں غیر معمولی حالات میں تدفین کے حقوق کا معاملہ شامل تھا۔ بھارت نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان اقلیتوں کے تحفظ میں ناکام رہا ہے جبکہ نئی دہلی کو مذہبی آزادی اور تدفین کے حقوق پر لیکچر دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

تھرڈ کمیٹی میں دیگر بھارتی بیانات

اسی اجلاس کے دوران بھارت نے موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر بھی اپنا مؤقف پیش کیا۔ ڈپٹی سیکریٹری برکھا تمراکر نے ججوں اور وکیلوں کی آزادی سے متعلق خصوصی نمائندے کی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت موسمیاتی تبدیلی کو ترقی، روزگار اور انسانی حقوق کو متاثر کرنے والا سنجیدہ چیلنج سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا نقطہ نظر مساوات، موسمیاتی انصاف اور پائیدار ترقی پر مبنی ہے۔

بھارتی نمائندے نے مزید کہا کہ بھارت میں ماحولیاتی تحفظ آئین، جامع قانون سازی، نیشنل گرین ٹریبونل اور آزاد عدلیہ کے ذریعے مضبوطی سے محفوظ ہے، اور سپریم کورٹ نے زندگی اور مساوات کے بنیادی حقوق کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے اہم ضمانت قرار دیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان اقوام متحدہ کے فورمز پر بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کے مؤقف کو چیلنج کرتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: شہباز: کشمیر، فلسطین کیس اقوام متحدہ چارٹر کی خلاف ورزی (https://ntmnews.online/?p=1802) اور پاکستان نے خلیل زاد کے الزامات مسترد کر دیے (https://ntmnews.online/?p=1762)

ماخذ: دی ٹریبیون (اے این آئی) — 25 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *