تورخم سرحد پر کشیدگی — افغان چوکی پر وارننگ فائر

0

طورخم سرحد پر افغان فورسز کی متنازع چوکی کی تعمیر پر پاکستانی فورسز نے وارننگ فائر کیے، جس سے سرحدی علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی شام طورخم سرحد کے زیرو پوائنٹ کے قریب پیش آیا، جہاں مقامی آبادی گھروں میں محصور ہو گئی۔

100 میٹر کا معاہدہ اور دوسری خلاف ورزی

طورخم حکام کے مطابق یہ رواں ہفتے دوسری بار ہے کہ افغان حکام نے باہمی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ معاہدے کے تحت سرحد کے 100 میٹر کے دائرے میں کوئی نئی چوکی یا عمارت تعمیر نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی پرانی عمارت کی مرمت ہو سکتی ہے۔ افغان فورسز کی جانب سے متنازع زنگلی چوکی پر کام دوبارہ شروع کرنے پر پاکستانی حکام نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

حکام نے بتایا کہ وارننگ فائر صرف اس وقت کیے گئے جب زبانی پیغامات کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ پاکستانی فورسز نے افغان حکام سے زیرو پوائنٹ کے قریب غیر قانونی سرگرمی سے باز رہنے کا مطالبہ کیا تھا۔

19 اکتوبر کا واقعہ اور واپسی کا عمل

اس سے قبل 19 اکتوبر کو بھی اسی چوکی کی تعمیر پر مسلح تصادم ٹل گیا تھا، جب پاکستانی حکام کے شدید احتجاج پر افغان حکام نے تعمیراتی کام روک دیا تھا۔ اس روز غیر دستاویزی افغان شہریوں کی واپسی کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا اور امیگریشن و کسٹمز کے دفاتر کچھ گھنٹوں کے لیے بند رہے تھے۔ بعد میں تعمیر رک جانے پر واپسی کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا تھا۔

جمعہ کی شام بھی فائرنگ کے بعد سرحدی علاقے میں خوف کی فضا رہی اور رہائشی گھروں کے اندر رہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سرحدی مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتا ہے، لیکن سرحدی سلامتی کے اصولی موقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ذرائع: ڈان (24 اکتوبر 2026)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *