ثنااللہ کا کے پی آپریشنز پر خبردار — ‘کولیٹرل ڈیمیج’ کا خطرہ

0

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جاری انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران شہریوں کو “کولیٹرل ڈیمیج” کا خطرہ ہے — بشرطیکہ مقامی آبادی دہشتگردوں کو آبادی والے علاقوں سے نہ ہٹائے اور نہ ہی سیکیورٹی فورسز کو راستہ دے۔ رانا ثنااللہ نے جمعے کو جیو نیوز کے پروگرام “نیا پاکستان” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد حساس علاقوں کی آبادی کے درمیان چھپے ہوئے ہیں۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ انٹیلیجنس اداروں کو دہشتگردوں کی تعداد اور ٹھکانوں کا مکمل علم ہے اور ان کا انٹیلیجنس کام “مکمل” ہے، جبکہ حساس علاقوں میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد کم از کم 3 سے 15 افراد کے گروپوں میں سرگرم ہیں اور ایسے 70 فیصد گروپ حساس علاقوں میں موجود ہیں۔

دو راستے یا خطرہ

رانا ثنااللہ کے بقول، متعلقہ علاقوں کے رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ یا تو دہشتگردوں کو آبادی والے علاقوں سے نکال دیں، یا خود ایک طرف ہٹ جائیں تاکہ آپریشن ہو سکے۔ “اگر ان دو میں سے کوئی بھی آپشن ممکن نہ ہوا تو کولیٹرل ڈیمیج کا خطرہ ہوگا”، انہوں نے خبردار کیا۔

سابق صوبائی حکومت پر الزام

رانا ثنااللہ نے الزام لگایا کہ سہیل آفریدی کی (اب غیر فعال) حکومت نے لوگوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون سے حوصلہ شکنی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب صوبہ گورنر کی سربراہی والے سیٹ اپ کے تحت چل رہا ہے اور دہشتگردی کے خاتمے کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشتگردی کا خاتمہ “ہفتوں اور مہینوں” میں ممکن ہے اور اس میں زیادہ دیر نہیں لگے گی، بشرطیکہ موجودہ انتظامیہ مکمل تعاون کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت پی ٹی آئی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی توقع رکھتی ہے۔

سیاسی مذاکرات پر بھی بات

اسی گفتگو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کے لیے تیار ہے۔ واضح رہے کہ کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی رول کے بعد دہشتگردی کے خاتمے کو حکومت کی بڑی ترجیح قرار دیا جا رہا ہے۔

صارفین کی معلومات کے لیے: خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال اور گورنر راج کے پس منظر پر مزید تفصیل ان خبروں میں پڑھی جا سکتی ہے — وزیراعظم کا کے پی ایمرجنسی راج کا دفاع اور ڈی سیز کو 6 ماہ نظر بندی کا اختیار۔


ذرائع: جیو نیوز، ایکسپریس ٹریبیون، دی نیوز، پاکستان ٹوڈے (23 اکتوبر 2026)۔ بیانات وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ سے منسوب ہیں؛ متضاد دعووں کی آزاد تصدیق زیر التواء ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *