بیلگریڈ میں ڈیڑھ لاکھ کا ریلی، اتوار کو الیکشن
سربیا کے دارالحکومت بیلگریڈ میں اتوار 25 اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات سے قبل اپوزیشن کی طلبہ تحریک کی تاریخی ریلی نکالی گئی، جس میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد نے شرکت کی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی اور آزاد ہجوم نگرانی گروپوں کے تخمینوں کے مطابق مظاہرین نے سلاویجا اسکوائر اور اطراف کی سڑکوں کو بھر دیا۔
یہ ریلی “اسٹوڈنٹ لسٹ” تحریک کا انتخاب سے قبل آخری بڑا اجتماع تھا۔ شرکاء سربیا کے جھنڈے اور “طلبہ جیت رہے ہیں” کے بینرز اٹھائے ہوئے تھے، سیٹیاں بجاتے اور نعرے لگاتے رہے۔ تقاریر کے بعد امیدواروں نے حامیوں کے ساتھ سربیا کے آئین کی کاپیاں اٹھا کر روایتی لوک رقص میں بھی حصہ لیا۔
دو سالہ احتجاجی تحریک کا پس منظر
اس تحریک کی بنیاد نومبر 2024 میں نووی ساد ریلوے اسٹیشن کے کنکریٹ شامیانے کے گرنے سے پڑی تھی، جس میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سانحے کے بعد بدعنوانی اور تعمیراتی نگرانی میں ناکامی کے الزامات پر طلبہ کی قیادت میں ملک گیر احتجاج شروع ہوئے، جو تقریباً دو سال تک جاری رہے۔
اب یہی طلبہ تحریک ایک سیاسی قوت بن کر حکمران سربین پروگریسیو پارٹی (ایس این ایس) کو چیلنج کر رہی ہے، جو الیکزاندر ووچچ کی قیادت میں 14 سال سے زیادہ عرصے سے اقتدار میں ہے۔
ووچچ کی حریف ریلی
اسی دن بیلگریڈ میں ہی ووچچ نے بھی اپنی الگ انتخابی ریلی منعقد کی، جس سے اتوار کے ووٹ سے قبل مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے۔ سول سوسائٹی کی 24 تنظیموں نے مشترکہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ ووٹنگ کے لیے “آزادانہ اور منصفانہ انتخابات” کے حالات موجود نہیں، اور دھمکیوں، گرفتاریوں اور ریاستی وسائل کے غلط استعمال کی دستاویزی شواہد موجود ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران طلبہ مظاہرین کے خلاف دھمکیوں کی اطلاعات بھی بڑھی ہیں، تاہم ان کی ریلیاں بڑی حد تک پرامن رہی ہیں۔ ایک 35 سالہ شریک طالب علم نے کہا: “یہ آخری ریلی ہے، اور ہم سب یہاں محبت اور امن کا پیغام دینے آئے ہیں — 25 تاریخ کو پولنگ اسٹیشنوں پر ملیں گے۔”
دو سال کی سڑکوں پر جدوجہد کے بعد طلبہ تحریک پہلی بار ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کر رہی ہے، اور اتوار کے نتائج بتائیں گے کہ ووٹروں میں اسے کتنی حمایت حاصل ہوئی۔
مزید پڑھیں: فرانس میں احتجاج پر پابندی — میکرون کا بڑا فیصلہ
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں — پاکستان کی اسرائیل کی مذمت
ذرائع: اے ایف پی، ڈی ڈبلیو، دی گارڈین، الجزیرہ۔ ہجوم کی تعداد آزاد نگرانی گروپوں کے تخمینوں پر مبنی ہے۔