شہباز شریف کا پشاور میں ایپکس کمیٹی اجلاس — “آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے”

0

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آرام سے نہیں بیٹھا جائے گا، اور حکومت وفاق اور عسکری قیادت مل کر خیبر پختونخوا میں امن، استحکام اور خوشحالی کا دور واپس لائے گی۔ وزیراعظم کے مطابق بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال نے وفاق کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے پر مجبور کیا۔

اجلاس میں کون کون شریک ہوا

یہ اہم اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، عطا اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، امیر مقام، رانا ثنا اللہ، چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشتگردی کی کوششوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

گورنر راج کی وضاحت اور ماضی کی حکومت پر تنقید

وزیراعظم نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں سے 2018 تک خیبر پختونخوا میں مکمل امن قائم ہو چکا تھا، لیکن ان کے بقول سابق پی ٹی آئی حکومت نے دہشتگردوں کو دوبارہ واپس آنے کی اجازت دی، جس سے برسوں کی انسداد دہشتگردی کی کوششیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار پاکستانیوں نے جانوں کی قربانی دی جبکہ معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔

وزیراعظم نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 5 ہزار پولیس بھرتیاں خالی رہیں، سیف سٹی منصوبہ نامکمل رہا، اور پولیس اور سی ٹی ڈی کو مناسب تربیت اور جدید اسلحہ نہ مل سکا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت انسداد دہشتگردی کے لیے صوبے کو 800 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، پھر بھی دہشتگردی دوبارہ پھیل گئی۔

گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ مشکل فیصلہ لینے سے پہلے سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کی ہر کوشش کی گئی — 48 گھنٹوں کے مذاکرات کے لیے ایک سیاسی کمیٹی بنائی گئی اور انہوں نے خود صدر آصف علی زرداری سے دو مرتبہ مشاورت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے یہ اقدامات مکمل طور پر آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سابق صوبائی انتظامیہ کے دور میں صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب اور کوہستان کے بڑے اسکینڈل میں 37 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔

وزیر داخلہ کی بریفنگ اور کمیٹی کا عزم

اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور وفاق کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات و معاونت پر شرکاء کو بریفنگ دی۔ ایپکس کمیٹی نے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا اور پاک فوج، پولیس اور عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پائیدار امن صوبے کی استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک بااہل اور ایماندار مشیروں پر مشتمل ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے جو صوبے کے انتظامی، سیکیورٹی اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے گی۔ انہوں نے پشاور اسکول چھت گرنے کے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت، عسکری قیادت اور صوبائی اداروں کے تعاون سے خیبر پختونخوا کے مسائل حل کیے جائیں گے اور لوگوں کی امن، خوشحالی اور ترقی کی خواہشوں کو حقیقت میں بدلا جائے گا۔

ماخذ: 24NewsHD اور سرکاری اعلامیہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *